نور بیان قابلِ اعتماد اسلامی آلات
کیلکولیٹر کھولیں
نور بیان / وراثت / بیوی + ۲ بیٹے + ۱ بیٹی

ایک بیوی، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کا حصۂ میراث

جب کوئی شخص بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ کر فوت ہو، تو زندہ اولاد کی موجودگی کی بنا پر بیوی آٹھواں حصہ لیتی ہے، اور بیٹے و بیٹی باقی ترکہ بطور عاصب ۲:۱ (مرد بمقابلہ عورت) تقسیم کرتے ہیں۔

مختصر جواب
بیوی 1/8 12.5%
بیٹے 7/10 70%
بیٹیاں 7/40 17.5%

حصص کیسے نکالی جاتی ہیں

1
بیوی — بیوی کا مقررہ فرض۔
2
بیٹے — تعصیب — باقی ترکہ لیتے ہیں، بیٹیوں کے ساتھ ۲:۱۔
3
بیٹیاں — بیٹوں کے ساتھ تعصیب — ہر بیٹی کو بھائی کے حصے کا نصف۔
﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾
القرآن · النساء ۴:۱۱ اولاد کے درمیان تعصیب کی ۲:۱ تقسیم کی بنیاد۔

حل شدہ مثال

قرضوں اور وصیت کی ادائیگی کے بعد $250,000.00 کے ترکے پر:

وارثحصہرقم
بیوی 1/8 $31,250.00
بیٹے 7/10 $175,000.00
بیٹیاں 7/40 $43,750.00
کل 100% $250,000.00

اکثر پوچھے گئے سوالات

بیوی چوتھائی کے بجائے آٹھواں حصہ کیوں لیتی ہے؟
چونکہ میت نے زندہ اولاد چھوڑی، اس لیے بیوی کا حصہ چوتھائی سے کم ہو کر آٹھواں رہ جاتا ہے۔
باقی ترکہ بیٹوں اور بیٹی میں کیسے تقسیم ہوتا ہے؟
بیوی کے حصے کے بعد باقی ترکہ بطور عصبہ تقسیم ہوتا ہے: ہر بیٹے کو بیٹی کے مقابلے دوگنا (مرد کو دو عورتوں کے برابر)۔
صرف رہنمائی کے لیے
نتائج اہلِ سنت (جمہور) کے معیاری قواعد کے مطابق ہیں اور تعلیمی رہنمائی کے لیے ہیں۔ کسی خاص ترکے کے لازمی حکم کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔